دنیا کاانو کھا ترین کیس، عدالت میں ایک طوطے کا طلبی

دنیا کاانو کھا ترین کیس، عدالت میں ایک طوطے کا طلبی امریکی ریاست مشی گن میں استغاثہ اس بات پر غوروفکر کر رہا ہے کہ کیا قتل کے ایک مقدمے میں طوطے کو گواہ کے طور پراستعما ل کیا جا سکتا ہے ۔48 سالہ گلینا ڈیو رم پر اپنے شوہر پر مارٹن ڈےورم کو اپنے پالتو طوطے کے سامنے قتل کرنے کا الزام ہے۔ ےہ قتل 2015 میں ہوا تھا مقتول کے رشتے داروں کاکہنا ہے کہ بڈ نامی ان کے افریقی نسل کے بھرے طوطے نے دونوںکی بات چیت سنی تھی اور وہ ان کے آخری الفاظ کو بار بار دہرا رہا ہے مقا می استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ آیا کسی پرندے کو گوا ہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیںنیوے گو ونٹری کے جج رابرت سپرنگ سیٹڈنے ڈیروئٹ فری پریس کو بتایا ۔ ہم اس بارے میں غور کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اس کی گواہی کو نہیں مانا جاسکتا اور کیا اس کی فراہم کردا معلومات کو استعمال کیا جاسکتاہے گلیناڈیورم پراپنے شوہرکو پانچ گولیاں مرنے اورپھر خودکو گولی مارکرمرنے کاناکام الزام ہے اب طوطا مسڑڈیورم کی سابق اہلیہ کو سٹیناکیلر کے پاس ہے ان کا خیال ہے کہ قتل کی رات ان کے درمیان ہونے والی گفتگوکو دہرارہاہے جس کے آخری الفاظ گولی مت چلانا ہے مقتول کے والدین کوبھی اس خیال سے اتفاق ہے مسٹرڈیورم کے والد نے مقامی میڈیا کو بتایا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ طوطا وہاں موجود تھا اسے وہ باتیں یاد ہے اور وہ انھیں دہرا...